اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آج کل یہ سوال گردش کررہا ہے کہ فلسطین کی تیسری انتفاضہ کب شروع ہورہی ہے؟ اور اس سوال کے جواب میں مختلف فلسطینی تنظیموں کے راہنماؤں نے اظہار خیال کیا ہے۔
فتح تحریک کے ایک سینئر رکن کا کہنا ہے کہ تیسری انتفاضہ کا دارو مدار صہیونی ریاست کے رویوں پر ہے اور یہ انتفاضہ خودبخود شروع ہوگی اور اس کے لئے کسی قسم کے حکم نامے کی ضرورت نہیں ہے۔
الفتح تحریک کے رکن رائد رضوان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام نے 1967 سے اب تک اپنے غصب شدہ وطن کی آزادی کے لئے مختلف طریقوں سے مزاحمت کی ہے۔
انھوں نے 1987 میں پہلی انتفاضہ اور 2000 میں دوسری انتفاضہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: انتفاضہ کی یہ تحریکیں کسی کی ہدایت پر شروع نہیں ہوئیں اور تیسری یا چوتھی اور پانچویں انتفاضہ بھی اسی صورت میں ظہور پذیر ہوگی کیونکہ اس قسم کی تحریکیں صہیونی ریاست کی ظالمانہ پالیسیوں اور روزانہ کے حساب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں تہہ در تہہ اکٹھے ہونے والے غیظ و غضب کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
انھوں نے کہا: آج کل اس توقع کا اظہار کیا جارہا ہے کہ تیسری انتفاضہ تحریک بہت جلد شروع ہوسکتی ہے اور یہ امر مسلم ہے کہ غاصب صہیونی ریاست کے خلاف عوامی تحریک پرامن مظاہروں کے خلاف صہیونی اقدامات پر متحصر ہے۔
رضوان نے مغربی کنارے کے فلسطینی نوجوانوں کے پتھروں کے مقابلے میں بھاگتے ہوئے صہیونی فوجیوں کی تصویروں کی اشاعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اب جبکہ فلسطینی غزہ اور مغربی کنارے میں نام نہاد شکست ناپذير صہیونی افواج کے رعب و ہیبت توڑ چکے ہیں، صہیونی فوج کو حکم دیا گیا ہے کہ ان فلسطینیوں کو بلا جھجھک قتل کریں جو اس ریاست اور اس کے سیکورٹی اہلکاروں کے امن کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
ادھر جہاد اسلامی کے ایک راہنما احمد المدلل نے کہا ہے کہ تیسری انتفاضہ تحریک کا آغاز عنقریب ہوگا اور اس دفعہ انتفاضہ میں پتھروں اور غلیلوں کے بجائے جدید ہتھیار استعمال ہونگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110